ابنا: يمني شہريوں نے پورے ملک ميں مظاہرے کرکے معزول ڈکٹيٹر صالح کي حکومت کے تمام عناصر کو سياسي ميدان سے پوري طرح بے دخل کئے جانے کا مطالبہ کيا۔ مظاہرين نے ملک کے سياسي ڈھانچے کي تشکيل نو کي ضرورت پر زور ديا اور کہا کہ جب تک ڈکٹيٹر صالح کے وفادار افراد اقتدار ميں رہيں گے ملک ميں کوئي تبديلي نہيں آ سکے گي۔ مظاہرين نے صالح کو حاصل عدالتي استثناء ختم کئے جانے کا مطالبہ کيا اور ہزاروں يمني شہريوں کے قاتل ڈکٹيٹر اور اس کے رفقائے کار کو عدالت کے کٹہرے ميں لانے کي ضرورت پر زور ديا۔
صالح جس نے تينتيس سال تک يمن پر آمرانہ انداز ميں حکومت کي ہے ، گزشتہ فروري کے مہينے ميں امريکا اور سعودي عرب کي ايک تجويز کي بنياد پر اقتدار سے ہٹ گيا اور اس کے عوض اس کو عدالتي تحفظ دے ديا گيا ہے۔
صالح کے نائب عبد ربہ منصور ہادي نے پچيس فروري دو ہزار بارہ کو ايک ايسے اليکشن ميں جس ميں اس کے علاوہ کوئي اور اميدوار نہيں تھا، فتح حاصل کرکے صالح کا عہدہ سنبھال لياـ عبد ربہ منصور ہادي نے دو سال کے لئے عبوري صدارت کا عہدہ سنبھالا ہے۔.......
/169